زیر
25 Misre
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- دل آئینہ زیر پاے خیل مور ملتے ہیں
- غنچۂ منقار گل ہو زیر بال
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- جادۂ گلشن بہ رنگ ریشہ زیر خاک ہے
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- دویدن کے کمیں جوں ریشۂ زیر زمیں پایا
- زیر بار غم دام و درم چند رہا
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
- ریشۂ شہرت دوانیدن ہے رفتن زیر خاک
- نہاں در زیر بال آئینہ خانہ
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
- مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
- ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم
- نقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ