زندگی
23 Misre
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- بہ سختی ہاے قید زندگی معلوم آزادی
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- شوق مفت زندگی ہے اے بہ غفلت مردگاں
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- بہ سختی ہائے قید زندگی معلوم آزادی
- زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
- پھر وہی زندگی ہماری ہے
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- اے ترا لطف زندگی افزا
- ہماری زندگی کیا اور ہم کیا