زنجیر
39 Misre
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- حلقۂ زنجیر جز چشم تماشائی نہیں
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- دام گلۂ الفت زنجیر پشیمانی
- رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
- دود چراغ گویا زنجیر بے صدا ہے
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- جنوں رسوائی وارستگی زنجیر بہتر ہے
- ہر اشک چشم سے یک حلقۂ زنجیر بڑھتا ہے
- رامشگر ارباب فنا نالۂ زنجیر
- نے کوچۂ رسوائی و زنجیر پریشاں
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- موجۂ ریگ سے دل پاے بہ زنجیر آوے
- موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
- نالۂ زنجیر مجنوں رشتہ دار نغمہ ہے
- لخت لخت دل نگین خانۂ زنجیر ہے
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- رکھی بیجا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
- موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
- عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- ہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی