زمیں
36 Misre
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- ہووے نہ غبار دل تسلیم زمیں گیراں
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- دویدن کے کمیں جوں ریشۂ زیر زمیں پایا
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- زمیں کو صفحۂ گلشن بنایا خونچکانی نے
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- ورنہ ہے چرخ و زمیں یک ورق گرداندہ
- سر شک بر زمیں افتادہ آسا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- کو تیزی رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
- زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات
- توڑے ہے عجز تنک حوصلہ بر روے زمیں
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- ابدا پشت فلک خم شدۂ ناز زمیں
- زمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجاے غبار
- نہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- موکب خاص یوں زمیں پر تھا
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں