زلف
62 Misre
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- ٹوٹا ہے افسوس موے خم زلف
- پہ زلف یار کا افسانہ ناتمام رہا
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- بہ بوے زلف مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں
- ہے بیاد زلف مشکیں سال و ماہ
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- مشک ہے سنبلستان زلف ہیں گرد سواد
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- جانتے ہیں جوشش سوداے زلف یار میں
- زلف خیال نازک و اظہار بے قرار
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- افسانۂ زلف یار سر کر
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- دام ہوس ہے زلف دلاویز یک طرف
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- سنبلستان جنوں ہوں ستم نسبت زلف
- گر زلف یار کھنچ نہ سکے شانہ کھینچیے
- زلف پری بہ سلسلۂ آرزو رسا
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- حضرت زلف میں جوں شانہ دل چاک چڑھا
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- کہ زلف یار ہے مجموعۂ پریشانی
- زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- شکن زلف عنبریں کیوں ہے
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- جانتے ہیں جوشش سودائے زلف یار میں
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام
- خال کو دانہ اور زلف کو دام
- کشتۂ افعی زلف سیہ شیریں کو
- زلف معشوق کشش سلسلۂ وحشت ناز
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- جور زلف کی تقریر پیچ تاب خاموشی
- جو معشوق زلف دوتا باندھتے ہیں