زر
23 Misre
- برگ ریزی ہاے گل ہے وضع زر افشاندنی
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- الفت زر ہمہ نقصاں ہے کہ آخر قاروں
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- عقدہ ساں ہے کیسۂ زر پر خیال تنگ دل
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- اب عیار آبروے زر کھلا
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
- لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
- کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا
- تھا ترنج زر ایک خسرو پاس
- زر ہے سونا اور زر گر ہے سنار