زخم
87 Misre
- رفوئے زخم کرتی ہے بہ نوک نیش عقرب ہا
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- زخم دل پر باندھیے حلواے مغز استخواں
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- کہ بخیہ جلوۂ آثار زخم دنداں ہے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- عروج نا امیدی چشم زخم چرخ کیا جانے
- زخم دوزی جرم و پیراہن دریدن منع ہے
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- زخم دل میں ہے نہاں غنچۂ پیکان نگار
- صبح یک زخم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- خیر خواہ دید ہوں از بہر دفع چشم زخم
- گلشن زخم کھلاتا ہے جگر میں پیکاں
- بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
- خمیازہ طرب ساغر زخم جگر آوے
- آئینہ بہ عریانی زخم جگر آوے
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- زخم فراق خندۂ بیجا کہیں جسے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
- تکلیف پردہ داری زخم جگر گئی
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- خط نوخیز نیل چشم زخم صافیٔ عارض
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- نیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل
- سینہ جویائے زخم کاری ہے
- صبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے
- شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
- زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخم سوزن کی
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- گفتگو بے مزہ و زخم تمنا نمکیں
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- جلوۂ طور نمک سودۂ زخم تکرار
- بخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- ہے جراحت اور زخم اور گھاؤ ریش
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار