ز
19 Misre
- رنگ ز نظر رفتہ حناے کف افسوس
- آئینہ خانہ ز سیل اشک ہر ویرانہ تھا
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہے
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- ز خود رفتگی ہائے حیرت سلامت
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
- برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امر
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی