ریز
15 Misre
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
- دور ساغر یک گلستاں برگ ریز تاک ہے
- سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- عرق ریز تپش ہیں موج کے مانند زنجیریں
- عیسی مہرباں ہے شفا ریز یک طرف
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- برگ ریز ناخن مطرب بہار نغمہ ہے
- چشم دریا ریز ہے میزاب سرکار چمن
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- خلش غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
- سبزۂ صحرائے الفت نشتر خوں ریز ہے
- ہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں