رہے
40 Misre
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- اسدؔ طلسم قفس میں رہے قیامت ہے
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
- لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا
- رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں
- مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت
- حضرت کا عز و جاہ رہے گا علی الدوام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- کہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار
- ایام جوانی رہے ساغر کش حال
- تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں