رہی
14 Misre
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام