رہا
80 Misre
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا
- ہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
- بسان اشک گرفتار چشم دام رہا
- دلے ہنوز خیال وصال خام رہا
- پہ زلف یار کا افسانہ ناتمام رہا
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- غنچۂ خاطر رہا افسردگی مانوس و بس
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- لا جرم توڑ کے عاجز قلم چند رہا
- زیر بار غم دام و درم چند رہا
- میں پرستندۂ روے صنم چند رہا
- رہا میں ضعف سے شرمندۂ نو آموزی
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- رہا بے گانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
- رہا پامال حسرت ہاے فرش بزم گستردن
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
- یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
- یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
- جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
- دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
- ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
- صورت دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- بارے دو دن کہاں رہا غائب
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- لمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام
- محروم صدا رہا بغیر از یک تار
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات