رہ
94 Misre
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- مژہ فرش رہ و دل ناتواں و آرزو مضطر
- بازگشت جادہ پیماے رہ حیرت کہاں
- رہ خوابیدہ میں افگندنی ہے طرح منزل ہا
- دامن گردوں میں رہ جاتا ہے ہنگام وداع
- بپاے خامۂ مو طے رہ وصف کمر کیجیے
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- پیمایش زمین رہ عمر بس تمام
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- جاں دادۂ ہواے سر رہ گزار تھا
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- نے سرد برگ آرزو نے رہ و رسم گفتگو
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- ہووے ہے جادۂ رہ رشتہ گوہر ہرگام
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- آئندہ سال تک جو گرفتار رہ گیا
- جادۂ رہ سر بسر مژگان چشم دام ہے
- دل فرش رہ ناز ہے بیدل اگر آوے
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا
- مژہ فرش رہ و دل ناتوان و آرزو مضطر
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- ہوئے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- پڑا رہ اے دل وابستہ بیتابی سے کیا حاصل
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
- پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- کہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- گرد باد رہ بیتابی ہوں
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال
- دشواریٔ رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ
- صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امر
- رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
- ہوے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- قبلہ و ابروے بت یک رہ خوابیدۂ شوق
- گرد رہ سرمہ کش دیدۂ ارباب یقیں
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- بہت ہے پایۂ گرد رہ حسین بلند
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
- غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی
- ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی
- جاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی
- آتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی
- نکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی