رگ
61 Misre
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاے خارا ہے
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- ہے رگ یاقوت عکس خط جام آفتاب
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- طوق ہے گردن قمری میں رگ بالیدہ
- مژگاں خلیدۂ رگ ابر بہار ہے
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- طائر سیماب کو شعلہ رگ دام ہے
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- بسان سبزہ رگ خواب سے زباں ایجاد
- یک رگ خواب و سراسر جوش خون آرزو
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- بچشم درشدہ مژگاں ہے جوہر رگ خواب
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- مطلب ہے ربط سے رگ و پے کی خمیدگی
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- درازی رگ خواب بتاں خط چیں ہے
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- شفق ساں موجۂ خوں ہے رگ خواب
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- صورت اشک بہ مژگان رگ تاک چڑھا
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
- رگ بالیدۂ گردن ہے موج بادہ درمینا
- شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- مژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- بہ زاہداں رگ گردن ہے رشتۂ زنار
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ
- بیخودی دام رگ گل سے ہے پیمانہ شکار
- باندھے زنار رگ سنگ میان کہسار
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار