رکھتے
39 Misre
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- برہنہ مستی صبح بہار رکھتے ہیں
- جنون حسرت یک جامہ دار رکھتے ہیں
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- گزشتگاں اثر انتظار رکھتے ہیں
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- بہ عکس آئنہ یک فرد سادہ رکھتے ہیں
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- سر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں
- دل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- زبان بستہ و چشم کشادہ رکھتے ہیں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے