رکھتا
23 Misre
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- ظاہرا رکھتا ہے آئینۂ اسیر زنگ دل
- پنجۂ مژگاں بخود بالیدنی رکھتا ہے آج
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- کہ ضرب تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
- رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- پنجۂ مژگاں بہ خود بالیدنی رکھتا ہے آج
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- جسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام