رکھا
8 Misre
رکھا اسپند نے مجمر میں پہلو گرم تمکیں کا
رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
طاؤس نے اک آئنہ خانہ رکھا گرو
حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
آسماں نے بچھا رکھا تھا دام
ر
All Letters