رکھ
36 Misre
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- رکھ فکر سخن میں تو معذور مجھے غالبؔ
- اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- کشود غنچۂ خاطر عجب نہ رکھ غافل
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- پنبۂ میناے مے رکھ لو تم اپنے کان میں
- ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
- نہ رکھ چشم حصول نفع صحبت ہائے ممسک سے
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- رکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم
- اسدؔ یاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا
- یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
- تار تانا پود بانا یاد رکھ
- آزمودن آزمانا یاد رکھ
- فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ
- اور گھنٹالا درا ہے یاد رکھ
- گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ
- اور ہے نداف دھنیا یاد رکھ