روشن
17 Misre
- روز روشن شام آں سوے خیال
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- فروغ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- کرے ہے روے روشن آفتابی
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
- رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمک
- زہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھے
- روان روشن و خوے خوش و دل آگاہ
- شاہ روشن دل بہادر شہ کو ہے
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات