روز
36 Misre
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- روز روشن شام آں سوے خیال
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- اے شب پروانہ و روز وصال عندلیب
- بدر کے مانند کاہش روز افزوں ہے مجھے
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- بچتے نہیں مواخذۂ روز حشر سے
- پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
- پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
- شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں
- وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
- روز بازار جاں سپاری ہے
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- ہر کر اپنج روز نوبت اوست
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- مہر رخشاں کا نام خسرو روز
- کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- شب و روز افتخار لیل و نہار
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- دولت و عز و جاہ روز افزوں
- لیل یعنی رات دن اور روز یوم
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات