رواں
15 Misre
- بساط ہیچ کسی میں برنگ ریگ رواں
- ہوا ہے موجۂ ریگ رواں شمشیر فولادی
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- خامے کا صفحے پر رواں ہونا
- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں