رنگ
174 Misre
- اختلاف رنگ و بو طرح بہار بیخودی
- رنگ سیاہ نیل غبار سحاب ہے
- اب طائر پریدہ رنگ حنا کہوں
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- گر دکھاؤں صفحۂ بے نقش رنگ رفتہ کو
- بباغ رنگ ہاے رفتہ گلچین تماشا ہے
- اشک چکیدہ رنگ پریدہ
- شکست رنگ کی لائی سحر شب سنبل
- بہ نقص ظاہری رنگ کمال طبع پنہاں ہے
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشکباری کا
- ہے شکست رنگ گل آئینہ پرواز نقاب
- رنگ شب تہ بندی دود چراغ خانہ تھا
- جادۂ گلشن بہ رنگ ریشہ زیر خاک ہے
- رنگ یاں بوسے سوار تو سن چالاک ہے
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- ساق گل رنگ سے اور آئنہ زانو سے
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- فرصت آئینہ صد رنگ خود آرائی ہے
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- ہے چمن سرمایۂ بالیدن صد رنگ دل
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- گردش رنگ چمن ہے ماہ و سال عندلیب
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- بزم داغ طرب دباغ کشاد پر رنگ
- پر عنقا پہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں
- سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- گل غنچگی میں غرقۂ دریاے رنگ ہے
- جاے کہ اسدؔ رنگ چمن باختنی ہے
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- رنگ ز نظر رفتہ حناے کف افسوس
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- ہے پر پرواز رنگ رفتۂ خوں گفتگو
- خود آشیان طائر رنگ پریدہ ہوں
- شیشہ شکست اعتبار رنگ بگروش استوار
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- رنگ رخسار گل خرشید مہتابی کرے
- رنگ کی گرمی ہے تاراج چمن کی فکر میں
- بکمر دامن صد رنگ گلستاں زدہ ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- بہار نیم رنگ آہ حسرت ناک باقی ہے
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- رنگ ہے سنگ محک دعواے مینائی عبث
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
- رنگ روے شمع برق خرمن پروانہ تھا
- بیکاری تسلیم بہر رنگ چمن ہے
- رنگ طرب ہے صورت عہد وفا گرو
- عرض بساط انجمن رنگ مفت ہے
- برق آبیار فرصت رنگ دمیدہ ہوں
- یاں نعل ہے بہ آتش رنگ حنا گرو
- گلشن کو رنگ گل سے ہے درخوں طپیدگی
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- ناگہاں اس رنگ سے خونابہ ٹپکانے لگا
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- درد آئنہ کیفیت صد رنگ ہے یارب
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوں
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- ہوتا ہے ورنہ شعلۂ رنگ حنا بلند
- پردۂ درد دل آئینہ صد رنگ نشاط
- آشیان طائر رنگ حنا ہوجائیے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- سودائی خیال ہے طوفان رنگ و بو
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- فرصت آئینۂ صد رنگ خود آرائی ہے
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- رنگ نے آئنہ آنکھوں کے مقابل باندھا
- بہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
- صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا
- تا کجا اے آگہی رنگ تماشا باختن
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
- رنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- بہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم
- بہ رنگ سبزہ عزیزان بد زباں یک دست
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
- مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- گردش رنگ طرب سے ڈر ہے
- اب طائر پر بریدۂ رنگ حنا کہوں
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- بہ باغ رنگ ہائے رفتہ گل چین تماشا ہے
- ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
- ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
- رنگ تمکین گل و لالہ پریشاں کیوں ہے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- ہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے
- بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
- وہی صد رنگ نالہ فرسائی
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- آشیان طائر رنگ حنا ہوجائیے
- دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
- حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگ
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
- گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہے
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- گل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو
- رنگ میں سبزۂ نوخیز مسیحا کہیے
- گل و ریحان و لالہ رنگا رنگ
- رنگ عاشق کی طرح رونق بت خانۂ چیں
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- رفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار
- ناز پروردۂ صد رنگ تمنا ہوں ولے
- صورت رنگ حنا ہاتھ سے دامان بہار
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- رنگ کا زرد پر کہاں بو باس
- بہار شوخ و چمن تنگ و رنگ گل دلچسپ
- یہ رنگ زرد ہے چمن زعفراں مجھے