رنج
29 Misre
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- دلائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- وفاے حوصلہ و رنج امتحاں تجھ سے
- ساقی و تعلیم رنج محفل و تمکیں گراں
- سنجیدنی ہے ایک طرف رنج کوہکن
- خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
- بقدر یک نفس جادہ بصد رنج و تعب کاٹے
- دیکھی وفاے فرصت رنج و نشاط دہر
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- بہر از خود رفتگاں رنج خود آرائی عبث
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- دیکھی وفائے فرصت رنج و نشاط دہر
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- رنج نومیدی جاوید گوارا رہیو
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنی
- ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
- کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجے
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- رنج تعظیم مسیحا نہیں اٹھتا مجھ سے
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں