رقیب
25 Misre
- رقیب تمناے دیدار ہیں ہم
- قسمت بخت رقیب گردش صد جام ہے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- رقیب آئنہ ہے حیرت تماشائی
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- نقش ناز بت طناز بآغوش رقیب
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
- بہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل
- کوہ کن گر سنہ مزدور طرب گاہ رقیب