رشک
37 Misre
- ہم نشینی رقیباں گرچہ ہے سامان رشک
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- رشک ہے آسایش ارباب غفلت پر اسدؔ
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- پیمانۂ وسعت کدۂ شوق ہوں اے رشک
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
- بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
- قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
- رشک ہم طرحی واماں درد اثر بانگ حزیں
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- حیدرآباد دکن رشک گلستان ارم
- رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں
- رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز
- بیتابی رشک و حسرت دید سہی
- آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر