رسوائی
21 Misre
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- مژدۂ دیدار سے رسوائی اظہار دور
- جنوں رسوائی وارستگی زنجیر بہتر ہے
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- نے کوچۂ رسوائی و زنجیر پریشاں
- ہنوز دعوی تمکین و بیم رسوائی
- فریاد اسدؔ غفلت رسوائی دل سے
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
- چشم دلال جنس رسوائی
- اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی