رخسار
15 Misre
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
- حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- رنگ رخسار گل خرشید مہتابی کرے
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو