رخ
33 Misre
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- صافی رخ سے ترے ہنگام شب
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- یاں تیرگی اختر خال رخ زنگی ہے
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- نشان خال رخ داغ شراب پر تگالی ہے
- پری بہ شیشہ و عکس رخ اندر آئینہ
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- ہے فروغ رخ افروختہ خوباں سے
- شیشۂ آتشیں رخ پر نور
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- عکس رخ افروختہ تھا تصویر بہ پشت آئینہ
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- خال مشکین رخ دلکش لیلا کہیے
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمک
- وصل زنگار رخ آئنۂ حسن یقیں
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- اک نگار آتشیں رخ سر کھلا
- پشت و رخ آئنہ ہے دین و دنیا
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات