راہ
60 Misre
- راہ خوابیدہ کو غوغائے جرس افسانہ تھا
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- راہ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
- نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
- سختی راہ محبت منع دخل غیر ہے
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- کہ چشم آبلہ میں طول میل راہ مژگاں ہے
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
- مسلک شرع کے ہیں راہرو و راہ شناس
- مژدہ اے رہروان راہ سخن
- طے کرو راہ شوق زودا زود
- حبذا رسم و راہ نثاری
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- فوج کی گرد راہ مشک فشاں
- راہ خوابیدہ ہوی حندۂ گل سے بیدار
- ہر نفس راہ میں ٹوٹے نفس لیل و نہار
- خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- رہرو راہ خلد کا توشہ
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- کی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط