رات
27 Misre
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- رات کو آگ اور دن کو دھوپ
- زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات
- ایسی رونق ہوئی برات کی رات
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- لیل یعنی رات دن اور روز یوم
- ماہ چاند اختر ہیں تارے رات شب
- دوش کل کی رات اور امروز آج
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب