ذوق
88 Misre
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- نہ ذوق گریباں نہ پرواے داماں
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- اے سر شوریدہ ذوق عشق و پاس آبرو
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- جلوۂ بینش پناہ بخشے ہے ذوق نگاہ
- بسمل ذوق پریدن ہے بہ بال عندلیب
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
- نگاہ چشم حاسد دام لے اے ذوق خود بینی
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- قلزم ذوق نظر میں آئنہ پایاب تھا
- یاد ایامے کہ ذوق صحبت احباب تھا
- ہنوز نالہ پر افشان ذوق رعنائی
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
- اے خوشا ذوق تمنائے شہادت کہ اسدؔ
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- قلزم ذوق نظر میں آئینہ پایاب تھا
- یاد ایام کہ ذوق صحبت احباب تھا
- غفلت استعداد ذوق و مدعا غافل اسدؔ
- شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے
- بہ تمنا کدۂ حسرت ذوق دیدار
- عافیت بیزار ذوق کعبتین اچھا نہیں
- ذوق خودداری خراب وحشت تسخیر ہے
- واماندۂ ذوق طرب وصل نہیں ہوں
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
- فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
- اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینی
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگ
- بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
- مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی
- فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- ذوق نظارۂ جمال کہاں
- خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار
- دل خریدار ذوق خواری ہے
- ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- ذوق آرایش سرود ستار
- کشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک
- مگر اب ذوق بذلہ سنجی کو
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- سخن حق ہمہ پیمانۂ ذوق تحسیں
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- ذوق تسلیم تمنا سے بہ گلزار حضور
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز