ذرہ
38 Misre
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- ہر ذرہ چشمک نگہ ناز ہے مجھے
- آغوش گل ہے آئنۂ ذرہ ذرہ خاک
- نقش ہر ذرہ سویداے بیاباں نکلا
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- جوں ذرہ صد آئینۂ بے زنگ نکالوں
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- ہر ذرہ خاک عرض تمناے رفتگاں
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- ہر ذرہ بہ کیفیت ساغر نظر آوے
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- نقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا
- ذرہ بے پرتو خورشید نہیں
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
- پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت
- پرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں
- کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز
- شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- جلوۂ تمثال ہے ہر ذرہ نیرنگ سواد
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک