دے
71 Misre
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- کیا دے صدا کہ کلفت گم گشتگاں سے آہ
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
- سیماب پشت گرمیٔ آئینہ دے ہے ہم
- کچھ تو دے اے فلک ناانصاف
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دے
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- کبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
- سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- تا نہ دے باد زمہریر آزار
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- ہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- ران پر داغ تازہ دے کے وہیں
- بے خبر دے بکف پاے مسافر آزار
- حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جواب
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان