دیں
25 Misre
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- اسدؔ افسردگی آوارۂ کفر و دیں ہے
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملک
- شاہ دیں دار نے شفا پائی
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- عید شوال و ماہ فرور دیں
- خیر خواہ جناب دولت و دیں
- ہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں
- فخر دیں عز شان و جاہ جلال
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
- پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام