دیکھتے
26 Misre
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- تہ بال شمع حرم دیکھتے ہیں
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
- سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
- قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
- کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
- کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
- خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
- مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
- دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز