دیکھا
39 Misre
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
- آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
- دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
- کمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- یاں وہ دیکھا بچشم صورت بیں
- کہ مردوں کو نہ بدلتے ہوئے کفن دیکھا
- آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار