دیکھ
78 Misre
- دیکھ اے اسدؔ بہ دیدۂ باطن کہ ظاہرا
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاں
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- لب نگار میں آئینہ دیکھ آب حیات
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوے
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
- انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- دیکھ خونابہ فشانی میری
- رک گیا دیکھ روانی میری
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
- لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
- دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- آئینہ دیکھ جوہر برگ حنا نہ مانگ
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر