دیوار
56 Misre
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- ہے زبان پاسباں خار سر دیوار باغ
- دور بیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- دیوار بار منت مزدور سے ہے خم
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- تو بتے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- کیا کروں گر سایۂ دیوار سیلابی کرے
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- رکاب روزن دیوار خانۂ زیں ہے
- آئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- قالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- حریف راز محبت مگر در و دیوار
- جاں کالبد صورت دیوار میں آوے
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
- کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- حجر الاسود دیوار حرم کیجیے فرض
- جن کی دیوار قصر کے نیچے
- جام جمشید ہے یاں قالب خشت دیوار
- چشم جبریل ہوئی قالب خشت دیوار
- جلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار
- عرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار
- پھاند جانا یاد ہو دیوار کا