دیدۂ
39 Misre
- دیکھ اے اسدؔ بہ دیدۂ باطن کہ ظاہرا
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہوجاوے
- فصل گل میں دیدۂ خونیں نگاہان جنوں
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
- بیاض دیدۂ نخچیر پر کھینچے ہے تصویریں
- یاں سراغ عافیت جز دیدۂ بسمل نہ پوچھ
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- بیاض دیدۂ آہو کف سیلاب ہوجاوے
- سواد دیدۂ آہو شب مہتاب ہوجاوے
- دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
- غریب ستم دیدۂ باز گشتن
- سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
- جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- آئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے
- موئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- آئنہ داریٔ یک دیدۂ حیراں مجھ سے
- ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور
- کیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے
- گرد رہ سرمہ کش دیدۂ ارباب یقیں
- مژۂ دیدۂ نخچیر سے نبض بیمار
- دیدۂ گریاں مرا فوارۂ سیماب ہے
- ہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا