دیدار
36 Misre
- رقیب تمناے دیدار ہیں ہم
- چمن نا محرم آگاہی دیدار خوباں ہے
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- خانہ ہے سیل سے خو کردہ دیدار ہنوز
- ہوں خموشی چمن حسرت دیدار اسدؔ
- دیدار دوستان لباسی ہے ناگوار
- درد اسم حق سے دیدار صنم حاصل ہوا
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- مژدۂ دیدار سے رسوائی اظہار دور
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرواز تماشا ہا
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- بہ تمنا کدۂ حسرت ذوق دیدار
- گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرداز تماشا ہا
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
- ہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- ثانیاً دولت دیدار شہنشاہ امم
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا