دید
23 Misre
- عجز دید نہا بناز و ناز رفتن ہا بچشم
- عرض نشاط دید ہے مژگان انتظار
- چشم گریاں بسمل شوق بہار دید ہے
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
- خیر خواہ دید ہوں از بہر دفع چشم زخم
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- دید حیرت کش و خرشید چراغان خیال
- جمعیت آوارگی دید نہ پوچھو
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دید
- پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیں
- کمال گرمی سعیٔ تلاش دید نہ پوچھ
- جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- دید یک غنچہ سے ہوں بسمل نقصان بہار
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- بیتابی رشک و حسرت دید سہی