دیتا
18 Misre
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- بعد یک عمر ورع بار تو دیتا بارے
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- نیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیف
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- کوچہ دیتا ہے پریشاں نظری پر صحرا
- چھوڑ دیتا تھا گور کو بہرام
- پھینک دیتا طلاے دست افشار
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار