دیا
36 Misre
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
- کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- کھو دیا سطوت اسماۓ جلالی نے مجھے
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر
- لکھ دیا شاہدوں کو عاشق کش
- لکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام
- اس رقم کو دیا طراز دوام
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا
- غالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
- مدتوں تک دیا ہے آب حیات
- غوطے میں جا کر دیا کٹ کر جواب