دی
21 Misre
- طلسم منت یک خلق سے رہائی دی
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
- عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- چشم نرگس کو دی ہے بینائی
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- دی بدستور صورت ارقام
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ