دہن
12 Misre
- دہن شیر میں جا بیٹھیے لیکن اے دل
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- سبزہ ہے نوک زبان دہن گور ہنوز
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی