دہر
23 Misre
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- محیط دہر میں بالیدن از ہستی گزشتن ہے
- دیکھی وفاے فرصت رنج و نشاط دہر
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- چمن دہر میں ہوں سبزۂ بیگانہ اسدؔ
- ہے طلسم دہر میں صد حشر پاداش عمل
- دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
- دیکھی وفائے فرصت رنج و نشاط دہر
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
- وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
- دہر میں اس طرح کی بزم سرور
- دشمن آل نبی کو بطرب خانۂ دہر