دگر
16 Misre
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- کلفت طلسم جلوۂ کیفیت دگر
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- اثر موقوف بر عمر دگر ہے
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائے گا
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا
- آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا
- نظارہ دیگر و دل خونیں نفس دگر
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار