دوست
51 Misre
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- در خیال آباد سوداے سر مژگان دوست
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- نفس ہا بعد وصل دوست تاوان گستن ہا
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- صورت نقش قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
- تا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- آئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست
- اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
- در خیال آباد سودائے سر مژگان دوست
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
- دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
- پرواز ہا نیاز تماشائے حسن دوست
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- قول حافظ کا ہے بجا اے دوست
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- رشتہ در گرد نم افگندہ دوست
- ہے صحابی دوست خالص ناب ہے