دور
49 Misre
- یک در بر روے رحمت بستہ دور شش جہت
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- دور ساغر یک گلستاں برگ ریز تاک ہے
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- دور بیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- ہر چند امید دور تر ہو
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- کوکب بخت بجز روزن پر دور نہیں
- مژدۂ دیدار سے رسوائی اظہار دور
- اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشم غزال
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
- رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- گل از شاخ دور افتادہ ہے نزدیک پژمردن
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- اے اسدؔ ہے ہنوز دلی دور
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
- بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- ہے دور قدح وجہ پریشانی صہبا
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- پھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- چشم بد دور خسروانہ شکوہ
- اولیں دور امامت طرب ایجاد بہار
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے