دو
96 Misre
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- تکلف آئنہ دو جہاں مدارا ہے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ہے دو عالم صید انداز شہ دلدل سوار
- کلفت کشی ہستی بدنام دو رنگی ہے
- یک دو چیں دامان صحرا پردۂ محمل ہوا
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- موزونی دو عالم قربان ساز یک درد
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- اسدؔ خستہ گرفتار دو عالم اوہام
- دو جہاں وسعت بقدر یک فضاے خندہ ہے
- دو جہاں گردش یک سبحۂ اسرار نیاز
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- رہنے دو گرفتار بہ زندان خموشی
- مژہ فال دو جہاں خواب پریشاں زدہ ہے
- دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
- شیرازۂ دو عالم یک آہ نارسا ہے
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- بتاں زہراب اس شدت سے دو پیکان ناوک کو
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- ہے طاق فراموشی سوداے دو عالم
- ہوں ہیولاے دو عالم صورت تقریر اسدؔ
- دکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- بخش دو گر خطا کرے کوئی
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- تکلف آئنۂ دو جہاں مدارا ہے
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- دو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- ہندسے پہلے سات سات کے دو
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- حیرت آفت زدۂ عرض دو عالم نیرنگ
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- نقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- بارے دو دن کہاں رہا غائب
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- ہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار
- خانۂ تنگ ہجوم دو جہاں کیفیت
- سرنوشت دو جہاں ابر بیک سطر غبار
- سبحہ عرض دو عالم بکف آبلہ دار
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- موج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- تنگی حوصلہ گرداب دو عالم آداب
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- دل وارستۂ ہفتا دو دو ملت بیزار
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب